سرفراز شاہد

  1. فرخ منظور

    سرفراز شاہد لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں ۔ سرفراز شاہد

    لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں غزل کہنا بھی اب تو ہو گیا دشوار سردی میں محلے بھر کے بچوں نے دھکیلا صبح دم اس کو مگر ہوتی نہیں اسٹارٹ اپنی کار سردی میں مئی اور جون کی گرمی میں جو دلبر کو لکھا تھا اسی خط کا جواب آیا ہے آخر کار سردی میں دوا دے دے کے کھانسی اور نزلے کی مریضوں کو معالج...
  2. ز

    سرفراز شاہد يہي وہ کالج ہے جس ميں سلطانہ پڑھتي تھي

    وہ اس کالج کي شہزادي تھي وہ شاہانہ پڑھتي تھي وہ بے باکانہ آتي تھي وہ باکانہ پڑھتي تھي بڑے مشکل سبق تھے جن کو وہ روزانہ پڑھتي تھي وہ لڑکي تھي مگر مضمون سب مردانہ پڑھتي تھي يہي کالج ہے وہ ہمدم جہاں سلطانہ پڑھتي تھي جماعت ميں ہميشہ دير وہ آيا کرتي تھي کتابوں کے تلے فلمي رسالے لايا کرتي...
Top