@سر الف عین

  1. س

    غزل برائے اصلاح

    اس قدر بڑھ گئی ہے تنہائی بار لگنے لگی ہے بینائی میری امید ہے تو صرف خدا بخدا میں نہیں ہوں ہرجائی ایک تکمیل آرزو کے لیے ہم نے کی آپ اپنی رسوائی حال کہتا ہے اپنا اشکوں میں دل کو آتی نہیں ہے گویائی مستعد ہے ہمارے قتل پہ وہ جن کو تھا دعویٰ مسیحائی دل بہ امید تو رہا ہر دم کوئی امید بر نہیں آئی...
  2. س

    غزل

    سر اصلاح کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں نہ طبیب کی ہے خبر مجھے نہ کوئی دوا کا ہے سلسلہ۔ وہی زخم رستے ہیں جابجا وہی لادوا کا ہے سلسلہ۔ نہ وہ شور ہے نہ وہ راستے نہ کوئی سفر ہے نہ آرزو۔ جو ملا تھا داغ مفارقت وہ مری قضا کا ہے سلسلہ۔ نہیں چین اب مجھے ایک پل نہ قرار دل کو ملا کہیں ۔ وہی تلخیاں وہی...
  3. س

    غزل برائے اصلاح

    سمیٹ کر خواہشیں مَیں بیٹھا تھا اک مجسّم سوال بن کر۔ کہ تن بدن میں اتر گیا پھر سے اُن کا لہجہ ملال بن کر۔ ہزار کوشش اُنھیں بھُلانے کی روز کرتا ہوں تیرگی میں۔ مگر وہ پھر بھی مجھے ستاتےہیں خواب بن کر خیال بن کر۔ یہ رات کی بات ہے انھیں بےنقاب دیکھا کھلی فضا میں۔ پڑی جو گالوں پہ اُن کے شبنم تو پھر...
  4. س

    غزل

    سر اصلاح سخن کے لئے پیش خدمت ہوں @ سر الف عین خزاں کی اب دھول چاٹ لی ہر ورق پہ تازہ گلاب لکھنا. مٹا کے دل سے فراق سب وصل وصل سارے نصاب لکھنا. ردائے حسرت سے ڈھانپ کر منہ ملن کی امید منتظر ہے. مریض ہوں لاعلاج کچھ سوچ کر خطوں کے جواب لکھنا. سما گئی میری دھڑکنوں میں کہیں نسیم سحر کی خوشبو. وہ...
Top