ساقی امروہوی

  1. کاشفی

    سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے - ساقی امروہوی

    غزل (ساقی امروہوی) سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے پھر طبیعت میں مری کیوں نہ روانی آئے کوئی پیاسا بھی کبھی اس کی طرف رخ نہ کرے کسی دریا کو اگر پیاس بجھانی آئے میں نے حسرت سے نظر بھر کے اسے دیکھ لیا جب سمجھ میں نہ محبت کے معانی آئے اس کی خوشبو سے کبھی میرا بھی آنگن مہکے میرے گھر میں بھی...
  2. کاشفی

    متاعِ درد سے دل مالامال ہے میرا - ساقی امروہوی

    متاعِ درد سے دل مالامال ہے میرا زمانہ کیوں یہ سمجھتا ہے تنگدست ہوں میں (ساقی امروہوی)
Top