ہرجائی

  1. امجد میانداد

    ہرجائی (برائے اصلاح)

    السلام علیکم! اپنا ایک گیت استادوں کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ گزارش ہے کہ کچھ رہنمائی فرما دیں۔ ہرجائی کیسی اَگن مارے مَن میں تُو نے پیا لگائی صبح شام جلائے موہے تُو بڑا ہرجائی لُٹ گیا مارا چین سانوریا، من چَندرا ستائے رستے پہ نین سانوریا، تُو کاہے نہ آئے خود کو چُھپاؤں اپنی نظر...
  2. امجد میانداد

    میرا اک گیت: ہرجائی

    السلام علیکم! اپنا ایک گیت آپ دوستوں کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں امید ہے آپ کے دلوں میں گھر کر جائے گا۔ ہرجائی کیسی اگن مارے من میں تُو نے پیا لگائی صبح شام جلائے موہے تُو بڑا ہرجائی لُٹ گیا مارا چین سانوریا، من چندرا ستائے رستے پہ نین سانوریا، تُو کاہے نہ آئے خود کو چھپاؤں اپنی نظر...
Top