،میر تقی میر

  1. فرخ منظور

    میر میں رنجِ عشق کھینچے بہت ناتواں ہوا ۔ میر تقی میر

    میں رنجِ عشق کھینچے بہت ناتواں ہوا مرنا تمام ہو نہ سکا نیم جاں ہوا بستر سے اپنے اٹھ نہ سکا شب ہزار حیف بیمارِ عشق چار ہی دن میں گراں ہوا شاید کہ دل تڑپنے سے زخمِ دروں پھٹا خوں ناب میری آنکھوں سے منھ پر رواں ہوا غیر از خدا کی ذات مرے گھر میں کچھ نہیں یعنی کہ اب مکان مرا لامکاں ہوا مستوں میں...
Top