کلام جون ایلیا

  1. کاشف اختر

    جون ایلیا فقیہ و واعظ و مفتی پہ حرف گیر ہو کون؟ شہر آشوب ۔ جون ایلیا

    گزر گئے پسِ در کی اشارتوں کے وہ دن کہ رقص کرتے تھے مے خوار رنگ کھیلتے تھے نہ محتسب کی تھی پروا نہ شہرِ دار کی تھی ہم اہلِ دل سرِ بازار رنگ کھیلتے تھے غرورِ جبہ و دستار کا زمانہ ہے نشاطِ فکر و بساطِ ہنر ہوئی برباد فقیہ و مفتی و واعظ پہ حرف گیر ہو کون؟ یہ ہیں ملائکہ اور شہر جنتِ شداد ملازمانِ...
  2. کاشف اختر

    جون ایلیا وہ اک عجیب زلیخا ہے یعنی بے یوسف ۔ جون ایلیا

    جو حال خیز ہو دل کا وہ حال ہے بھی نہیں فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں تُو آ کے بے سروکارانہ مار ڈال مجھے کہ تیغ تھی بھی نہیں اور ڈھال ہے بھی نہیں مرا زوال ہے اس کے کمال کا حاصل مرا زوال تو میرا زوال ہے بھی نہیں کیا تھا جو لبِ خونیں سے اس پہ میں نے سخن کمال تھا بھی نہیں اور کمال ہے بھی...
  3. کاشف اختر

    جون ایلیا کتنے عیش سے رہتے ہوں گے، کتنے اتراتے ہوں گے.. غزل از جون ایلیا

    کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے اس کی یاد کی باد صبا میں...
Top