جرأت

  1. فرخ منظور

    اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا ۔ جرأتؔ

    اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا جس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپنا کوچۂ دہر میں غافل نہ ہو پابندِ نشست رہ گزر میں کوئی کرتا نہیں بستر اپنا غم زدہ اٹھ گئے دنیا ہی سے ہم آخر آہ! زانوئے غم سے ولیکن نہ اٹھا سر اپنا دیکھیں کیا لہجۂ ہستی کو کہ جوں آبِ رواں یاں ٹھہرنا نظر آتا نہیں...
  2. فرخ منظور

    کیوں دلا ہم ہوئے پابندِ غمِ یار کہ تو ۔ جرات

    کیوں دلا ہم ہوئے پابندِ غمِ یار کہ تو اب اذیّت میں بھلا ہم ہیں گرفتار کہ تو ہم تو کہتے تھے نہ عاشق ہو اب اتنا تو بتا جا کے ہم روتے ہیں پہروں پسِ دیوار کہ تو ہاتھ کیوں عشقِ بتاں سے نہ اٹھایا تو نے کفِ افسوس ہم اب ملتے ہیں ہر بار کہ تو و ہی محفل ہے وہی لوگ وہی چرچا ہے اب بھلا بیٹھے ہیں ہم شکلِ...
  3. پ

    غزل - ہمیں دیکھنے سے وہ جیتا تھا اور ہم اس پہ مرتے تھے -شیخ قلندر بخش جرات

    ہمیں دیکھنے سے وہ جیتا تھا اور ہم اس پہ مرتے تھے یہی راتیں تھیں اور باتیں تھیں وہ دن کیا گزرتے تھے وہ سوزِ دل سے بھر لاتا تھا اشک سرخ آنکھوں میں اگر ہم جی کی بے چینی سے آہِ سرد بھرتے تھے کسی دھڑکے سے روتے تھے جو باہم وصل کی شب کو وہ ہم کو منع کرتا تھا ہم اس کو منع کرتے تھے ملتی رہتی...
  4. پ

    غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپنا - شیخ قلندر بخش جرات

    غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپنا تو ہنس کے وہ بولے ہے میاں ! فکر کر اپنا باتوں سے کٹے کس کی بھلا راہ ہماری غربت کے سوا کوئی نہیں ہم سفر اپنا عالم میں ہے گھر گھر خوشی و عیش پر اس بن ماتم کدہ ہم کو نظر آتا ہے گھر اپنا ہر بات کا بہتر ہے چھپانا ہی - کہ یہ بھی ہے عیب - کرے کوئی...
  5. پ

    بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات- شیخ قلندر بخش جرات

    بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات آواراہ ء وطن کو لگے خوش وطن کی بات عیش طرب کا ذکر کروں کیا میں دوستو! مجھ غم زدہ سے پوچھئے رنج و محن کی بات شاید اسی کا ذکر ہو - ہر راہگزرمیں میں سنتا ہوں گوشِ دل ہر اک مرد و زن کی بات جرات! خزاں کے آتے چمن میں رہا نہ کچھ اک رہ گئی زباں پہ گل و...
Top