بہار آئی

  1. نبیل

    بہار آئی۔۔ (ٹینا ثانی)

    بہار آئی تو جیسے ایک بار لوٹ آئے ھیں پھر عدم سے وہ خواب سارے شباب سارے جو تیرے ھونٹوں پہ مر مٹے تھے جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے نکھر گئے ھیں گلاب سارے جو تیری یادوں سے مشکبو تھے جو تیرے عشاق کا لہو تھے ابل پڑے ھیں عذاب سارے ملال احوال دوستاں بھی خمارآغوش مہ وشاں بھی خمار خاطر کے باب...
Top