ایوب خاور

  1. فرخ منظور

    ہَوا کے رُخ پہ، رہِ اعتبار میں رکھا ۔ ایوب خاور

    ہَوا کے رُخ پہ، رہِ اعتبار میں رکھا بس اِک چراغ کُوئے انتظار میں رکھا عجب طلسمِ تغافُل تھا جس نے دیر تلک مری اَنا کو بھی کُنج خُمار میں رکھا اُڑا دیے خس و خاشاکِ آرزو سرِ راہ بس ایک دِل کو ترے اِختیار میں رکھا فروغِ موسمِ گل پیش تھا سو میں نے بھی خزاں کے زخم کو دشتِ بہار میں رکھا نجانے کون...
  2. پ

    غزل - ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا -محمد ایوب خاور

    غزل ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا اتنا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا تجھ سے کہنے کی کوئی بات نہ کرنا تجھ سے کنجِ تنہائی میں بس خود کو ملامت کرنا اک بگولے کی طرح ڈھونڈتے پھرنا تجھ کو روبرو ہو تو نہ شکوہ نہ شکایت کرنا ہم گدایانِ وفا جانتے ہیں اے درِ حسن! عمر بھر کارِ ندامت پہ...
  3. شہر زاد

    یوں سرِ شام تری یاد میں‌ آنسو نکل آئے - ایوب خاور

    ٓیوں سرِ شام تری یاد میں آنسو نکل آئے جس طرح وادی پرخار میں آہو نکل آئے ہاتھ میں ہاتھ لئے ترے خدوخال کے ساتھ جانے کب آئینہ جاں سے لبِ جو نکل آئے دل کی چوکھٹ سے لگا بیٹھا ہے تنہائی کا چاند اور اچانک کسی جانب سے اگر تو نکل آئے برف کے ریزوں کی صورت جو نظر آتے ہیں داغ یہ تیرے ہجر کے دُکھ جو...
  4. فرخ منظور

    سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام - ایوب خاور

    سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام ہر سر میں اِک رنگ دھنک کا تیرے نام جنگل جنگل اڑنے والے سب موسم اور ہوا کا سبز دوپٹہ تیرے نام ہجر کی شام اکیلی رات کے خالی در صبحِ فراق کا درد اجالا تیرے نام تیرے بنا جو عمر بتائی بیت گئی اب اس عمر کا باقی حصہ تیرے نام جتنے خواب خدا نے میرے نام لکھے...
Top