سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو
(مرزا غالب رحمتہ اللہ علیہ)
سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو
تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستایش ہے
کہو کہ خامس آل عبا کہیں اس کو
خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی
کہو کہ رہبر راہ خدا کہیں اس کو
خدا کا بندہ خداوندگار بندوں...
سلام
( جبار واصف)
مرے حسین سے جو بد گمان ہو جائے
مری دعا ہے کہ وہ بے نشان ہو جائے
کروں گا پھر علی اکبر پہ گفتگو تجھ سے
خدا کرے ترا بیٹا جوان ہو جائے
منافقوں کی تسلی بہت ضروری ہے
غدیر خم کا ذرا پھر بیان ہو جائے
علی کے روپ میں ہوتا ہے یا علی پیدا
کوئی مکان اگر لا مکان ہو جائے
خدا سلاتا ہے...
غزل
(ابھنندن پانڈے)
چلو فرار خودی کا کوئی صلہ تو ملا
ہمیں ملے نہیں اس کو ہمیں خدا تو ملا
نشاط قریۂ جاں سے جدا ہوئی خوشبو
سفر کچھ ایسا ہے اب کے کوئی ملا تو ملا
ہمارے بعد روایت چلی محبت کی
نظام عالم ہستی کو فلسفہ تو ملا
جو چھوڑ آئے تھے تسکین دل کے واسطے ہم
تمہیں اے جان تمنا وہ نقش پا تو ملا...
غزل
( آلوک شریواستو)
تمہارے پاس آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں
محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تبسم عطر جیسا ہے ہنسی برسات جیسی ہے
وہ جب بھی بات کرتی ہے تو باتیں بھیگ جاتی ہیں
تمہاری یاد سے دل میں اجالا ہونے لگتا ہے
تمہیں جب گنگناتا ہوں تو راتیں بھیگ جاتی ہیں
زمیں کی گود...