نتائج تلاش

  1. عابد رضا

    حقیقت۔

    یہ ضروری تو نہیں سب وعدے ہی سچے ہوں۔ جو ظاہری نظر آتے ہیں وہ سارے ہی اچھے ہوں۔۔ کب میں نے یہ عہد کیا تھا لوٹ کے واپس آؤ گا۔ گھنے شجر کے پاتے ہی وہ طائر واپس پلٹے ہوں۔۔ اب کے ساون میں جب مینہ برسا تم نے بھی دیکھا۔ جسں جس گھر سے پانی ٹپکا وہ سارے ہی کچے ہوں۔۔ ہم نے صحرا میں عابد کچھ ایسے مسافر...
  2. عابد رضا

    بھٹکا مسافر

    عشق اور عاشقی کے درمیاں. کچھ آزاد رستے ہیں. اُن ہی آزاد رستوں کا. میں اک بھٹکا مسافر ہوں.
  3. عابد رضا

    اپنی نا مکمل کتاب سے

    پیار کے کھیل میں یہ سودا بڑا اچھا رہا. ہار کے تجھ کو جیت جانا بڑا اچھا رہا. دل بھگولے سا اُڑا جاتا تھا ہر شوق کی راہ. آکے تم پہ ہی ٹھہر جانا بڑا اچھا رہا. جو سمائے تھے خیالوں میں خط و خال و نقش. تجھ میں یکسر وہ حُسن پانا بڑا اچھا رہا اس قدر عشق کا لبریز سمندر ھے وہ. دیر تک اُس میں دوب...
  4. عابد رضا

    خوبصورت موڑ۔۔۔چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ

    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں مرے...
Top