فکروں کا تو بہانہ تھا،
یوں بھی تو اس نے چھوڑ کے جا نا تھا،
اک گھر ا’سکا ہم سمجھتے رہے،،
ہر جگہ ا’سکا آشیا نہ تھا،
یہ ا’سکا دوش تھا یا تھی مجبوری،
یا ا’سکی فطرت میں دل د’کھا نا تھا،
مجھ کو طلب تھی فقط ا’سکی دوستی کی فراز،
ا’سکا ددست تو سارا زمانہ تھا۔۔۔۔
مجھے نہیں معلوم یہ واقع...