کچھ آسرے کسبِ فیض کے ہیں ، کچھ آئینے کشف نور کے ہیں
عجب سلیقے شہ زماں کے ، عجب قرینے حضور کے ہیں
حرا سے کرنوں کی جگمگاہٹ ہمارے دل تک پہنچ رہی ہے
یہ گھڑیاں پل پل مسرتوں کی ، یہ لمحے پیہم سرور کے ہیں
میں دل میں جھانکوں تو دیکھتا ہوں جھلک ترے روضہِ حسیں کی
کہ فاصلے جو نگاہ میں ہیں ، مغالطے نزد...