جست - خورشید رضوی
"جست"
(خورشید رضوی)
مرا حال یہ تھا
زمستاں میں جب برف زاروں میں چلتے ہوئے
گُرسِنہ بھیڑیوں کی قطاریں گزرتیں
تو میں کپکپاتا
یہ جی چاہتا، عرصۂ زیست کو چھوڑ کر
کوہساروں کے اُس پار ڈیرہ لگا لوں
اِدھر میرے جاتے ہی برفیں پگھل جائیں
گُرگانِ بے مہر میرے نقوشِ قدم سونگھ کر مجھ تک آنے...