مزید فرمائش پہ سناتے ہوئے عرفان بھائی
مردہ ہوں اورپھر بھی جئیے جا رہا ہوں میں
یعنی کہ زہرِ زیست پئیے جا رہا ہوں میں
ویسے بھی کیا تھی ان سے توقع کوئی مجھے
ارمانِ ناتمام لئے جا رہا ہوں میں
یوں خود کو بزمِ شوق میں رسوا و شرمسار
کرنا نہیں تھا مگر پھر بھی کئے جا رہا ہوں میں
ساقی تیری نگاہِ کرم کی...