سوشل میڈیا پر دی گئی خبر ایسی ہوتی ہے جو بہت سارے لوگ بہت کم وقت میں دیکھ کر اس پر ردِعمل ظاہر کر لیتے ہیں لیکن اس کی تصدیق کا عمل اتنا آسان نہیں ہوتا۔ ویسے بھی جب کسی دوسرے کی تحریر کو کوٹ کیا جائے تو اس کا حوالہ دینا بہتر ہوتا ہے
برادرم، یوسف-2 جس طرح فتنہ انگیز پوسٹس کو کاپی پیسٹ کرتے ہیں، اس وجہ سے ان کی پوسٹ جو بھی ہو، اس پر اچھی طرح بحث کرنی چاہیئے کہ کہیں وہ قرآنی آیت کے مصداق محض شرانگیزی تو نہیں کر رہے؟
کاپی پیسٹ کا یہی مسئلہ ہے کہ انہوں نے جہاں سے تصویر کاپی کی ہے، وہاں یہی تصویر موجود ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ اب خبر کی صداقت کہاں سے ہو، اس بارے موصوف چپ ہیں
اللہ جانے۔ بغیر حوالہ دیئے تو دونوں ہی جھوٹی لگ رہی ہیں۔ ایک تو اپنی زبان اردو کے فیس بک پیج سے لی گئی ہے اور دوسری کسی عبداللہ نامی بندے کے فیس بک سے :)