چلو جی۔۔ جیسے ہی اندازہ ہوا کہ حریف مورچہ نہیں سنبھال سکتے، تو گولہ باری شروع کر دی۔ مگر کسی غلط فہمی میں مت رہئیے گا کیونکہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور
ثابت کریں کہ پریشانی والی بات نہیں ہے۔ اگر بارہ تیرہ ٹمپریچر میں بھی موسم گرما کے دن سا گمان ہو تو سمجھیں کہ واقعی سیر سپاٹے پہ نکل چکا ہے۔ ان شاء اللہ بہتری ہوگی۔
صحیح ہے۔ مگر سوچ رہے کہ پہلے کس کے لئے دعا کریں
میچ کے لئے ، کپتان کے لئے یا عثمان کے لئے۔۔۔ وہ بھی تو دشمنوں سے کان چھیننے جا رہا ہے۔ تین بھاری ذمہ داریاں ہیں اس وقت ہمارے سر پر۔