جن کے ہونٹوں پہ تبسم ہے مگر آنکھ ہے نم
اس نے غم اپنا زمانے سے چھپایا ہوگا
بے تعلق سی فضا ہوگی رہِ غربت میں
کوئی اپنا ہی ملے گا نہ پرایا ہوگا
واہ بہت ہی عمدہ انتخاب سر۔۔۔ زبردست (y)
ہی ہی ہی۔۔۔ ہم نے تو روایتاً لکھا ہے۔۔۔ جسے گلزار صاحب کہتے ہیں
عادتاً تم نے کر دیے وعدے
عادتاً ہم نے اعتبار کیا
بس وہی ہم نے بیان داغ دیا۔۔ سمجھا کریں ناں۔۔ اس طرح کے بیانات سے ادبی ہونے کا تمغہ لگ جاتا ہے۔ :p