(4)
صلی علی کا شور جو ہے آسمان تک
آیا ہے لب پہ نام مرے کس جناب کا
کیسی تعب فشار کی کیسا عذاب قبر
مرقد میں چین سے ہے محب بوتراب کا
خورشید نار کیوں نہ کرے گوشہ لحد
یہ داغ عشق ہے خلف بو تراب کا
عذر گنہ میں سمع خراشی سے فائدہ
دفتر ہے دیکھ لو مرے حال خراب کا
حاضر ہو جب خودی تو...