کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
برف کے پگلھنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
اُس نے ہنس کر دیکھا تو مُسکرادیے ہم بھی
ذات سے نکلنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہوگی
بات کے مُکرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
زعم کِتنا کرتے ہو اِک چراغ پر اپنے
اور...