محبت کا ثمر ملتا نہیں ہے
یہ سکّہ اب کہیں چلتا نہیں ہے
ہمیں کیا جو سخن دُنیا میں گُونجا
جسے سُنتا تھا وہ سُنتا نہیں ہے
ہم اہلِ دل، سرِ بازار دُنیا
کھڑے ہیں، راستہ ملتا نہیں
سفر جاری اگر ہے رہنماؤ!
تو پھر کیوں فاصلہ گھٹتا نہیں ہے؟
تم اپنے باد باں کھولو نہ کھولو...