آدھی بات سن کر ہی دعا مانگ لی۔ انھیں ریٹرن بھی چاہئیے ہوتا ہے۔ دو کے بدلے چار۔ آخو۔
اور جو ان کا بولنے کا انداز ہے نا خیر سے
اچھا۔۔۔ تو پکوڑے کھائے ہیں۔۔۔ اکیلے؟
قسم لے لیں جو اس کے بعد گھنٹوں اس بات پہ خود کو برا بھلا کہنے میں نہ گزر جائیں کہ بھلا ضرورت کیا تھی اس ذکر کی۔ :rolleyes: