آپ جب اپنی خوشیوں کے وقت سے وقت نکال کر انھیں دیں جو دکھی ہوتے ہیں تو خوشی خود بخود آپ کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے۔ کوئی چیز آپ کو اتنی خوشی نہیں دے سکتی جو خوشی آپ کو کسی روتے ہوئے کی مسکراہٹ دے سکتی ہے۔
خیال آ رہا ہے کہ جیسےبیچ کو اگ کر پودا بننے کے لیے زمین میں دفن ہونا پڑتا ہے۔ ویسے ہی انسان کو رشتے نبھانے کے لیے رشتوں کے قبرستان میں دفن ہونا پڑتا ہے تب ہی وہ تابعدار کہلانے کا مستحق ٹہرتا ہے۔
رہتے ہیں ابابیل گھونسلہ بنا کر وہاں۔۔۔ جہاں اچھی سوچ اور اچھی آواز نکلتی ہو۔ ایسا ہم نے سن رکھا ہے۔
اور یہ بھی کہ جس مسجد کا موءذن سریلا ہو اور جہاں پر قراءت کا سماں بندھارہتا ہو وہاں ابابیل گھر بناتے ہیں۔
کیا یہ بات درست ہے؟
زبان پرندوں کی بھی ہوتی ہے۔ وہ منڈیروں پر بیٹھ کر ، صحن میں آکر کچھ نہ کچھ پیغام دیتے ہیں۔ بھلے ہم نہ سمجھ سکیں۔ لیکن ان کا گھر میں تشریف لانا ہی بڑے فلاح کی بات ہے۔
صبح اور شام پرندوں کو بریڈ اور چاول ڈالنا ایک فرض جیسا ہے۔ اور پھر آخری دانے تک کھاتے دیکھنا بہت دلچسپ لگتا ہے۔ آج ایک فاختہ نے دوسری کو چونچ ماری ۔ پتہ نہیں کیوں۔