حیرت ہے مگر
کون ہے جس نے میرے قلب کی دھڑکن دھڑکن
اپنے احساس کی سولی پہ چڑھا رکھی ہے
میری رفتار کے پر خوف و خطر رستے میں
کس نے آواز کی دیوار بنا رکھی ہے
🙄😥😥😥
ذرا سنیں تو
کچھ کیا جائے نہ سوچا جائے
مڑ کے دیکھوں تو نہ دیکھا جائے
میری تنہائی کی وحشت سے ہراساں ہو کر
میرا سایہ میرے قدموں میں سمٹ آیا ہے
کون ہے پھر جو میرے ساتھ چلا آیا ہے