وہ ساحلوں کی ہوا سے لڑکی
جو راہ چلتی تو ایسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہو
وہ کل ملی تو اسی طرح تھی
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے ،گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
کہ جیسے چاندی پگھل رہی ہو
مگر جو بولی تو اس کے لہجے میں وہ تھکن تھی
کہ جیسے صدیوں سے دشت ظلمت میں چل رہی ہو