چھَن گیا سینہ بھی، کلیجا بھی
یار کے تیر، جان لے جا بھی
کیوں تری موت آئی ہے گی عزیز؟
سامنے سے مِرے، ارے جا بھی
حال کہہ چُپ رہا جو* میں، بولا
کس کا قصّہ تھا؟ ہاں کہے جا بھی
ق
میں کہا، میرؔ جاں بلب ہے شوخ
تُو نے کوئی خبر کو بھیجا بھی؟
کہنے لاگا نہ واہی بک اتنا
کیوں ہوا ہے سڑی، ابے جا بھی
میر...