بساطِ ارض ہے تم سے یہ آسماں تم سے
ضیائے شمس و قمر، نورِ کہکشاں تم سے
خدا کی حمد میں رطب اللسانیاں تم سے
یہ پنجگانہ و تسبیح، یہ اذاں تم سے
گرہ کشائی اسرارِ دو جہاں تم سے
کہاں ملیں گے زمانے کو راز داں تم سے
فروغِ لالہ و گل، رنگِ گلستاں تم سے
ہے بلبلوں کی محبت کی داستاں تم سے
تمہاری ذات سراپا...