اگر کسی نے صدر کراچی کی زاہد نہاری نہیں کھائی تو کچھ نہ کھایا....جب بھی ہماری جیب بھری ہوتی ، یہاں کی نلی نہاری کھانا ہمارا خواب ہوتا تھا....ہم اس وقت سے زاہد کی نہاری کھا رہے ہیں..جب نہاری کی پلیٹ 25 روپے کی تھی...اور ہماری مہینہ بھی کی کمائی بارہ سو روپے- جوں جوں متحدہ کا بھتہ بڑھتا گیا...