آہ۔
کتنے ہی بیتے لمحات نگاہوں میں گھوم گئے۔
ہر دوسرے منظر کا اقتباس لے کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا ہمارے گھر بھی ہوتا تھا۔
تحریر میں تو ایسا کچھ نہیں، مگر پتہ نہیں کیوں؟ آنکھوں میں نمی آ گئی ہے۔
فصلِ خرد ہے، رنگِ چمن دیکھتے چلو
پھر اہتمامِ دار و رسن دیکھتے چلو
دلچسپ واقعہ ہے کہ صحرا کی دھوپ میں
ذروں کا جل رہا ہے بدن دیکھتے چلو
تنقید مت کروکہ زمانہ خراب ہے
چپ چاپ دوستوں کے چلن دیکھتے چلو
محسنؔ شبِ سیاہ بھی اوڑھے ہوئے ہے آج
شفاف چاندنی کا کفن دیکھتے چلو
٭٭٭
محسن نقوی
آمنہ بی کا پسر، راج کنور، لختِ جگر
ہے شہنشاہِ زمن، ختمِ رسل، فخرِ بشر
چاک رکھے شبِ یلدا کا جگر تا بہ سحر
بزمِ عالم میں سجی ایسی کہاں شمعِ دِگر
دوپہر، چار پہر، بلکہ ہے سچ آٹھ پہر
ہر جگہ صلِّ علیٰ تذکرۂ خیرِ بشر
رزم گاہِ حق و باطل میں وہ ہے شیرِ ببر
ایک آئے نہ مقابل جو چلے تیغِ دو سر
ڈال دیں...
ذہن میں صورتِ گماں ٹھہری
وہ نظر اس طرح کہاں ٹھہری؟
ہم نے جوبے خودی میں کہہ ڈالی
بات وہ زیبِ داستاں ٹھہری
پھول مانگو تو زخم دیتے ہیں
اب یہی رسمِ دوستاں ٹھہری
چاند کو دیکھ کر وہ یاد آئے
چاندنی میری رازداں ٹھہری
خواہشوں میں بکھر گئی محسنؔ
دوستی جنسِ رائیگاں ٹھہری
٭٭٭
محسن نقوی
پیارے بھائی اصلاح کے لیے پوسٹ کرنا ہو تو اصلاحِ سخن والے زمرہ میں پوسٹ کیجیے۔ :)
دو مشورے
"پہ " کو اگر دو حرفی باندھنا ہو تو مناسب ہے کہ "پر" استعمال کیا جائے۔
یہاں "میرا" ہونا چاہیے۔
باقی ان شاء اللہ اساتذہ دیکھ لیتے ہیں۔ :)