پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خونِ دل
سازِ چمن طرازیِ داماں کیے ہوئے
پھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولنا
جاں نذرِ دل فریبیِ عنواں کیے ہوئے
پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
سر زیر بارِ منتِ درباں کیے ہوئے
ابھی نئی عبارت دینے کا وقت نہیں۔ کوئی اور بھی دے سکتا ہے۔ :)
تدوین: زیر بار میں...