عرفان صدیقی کی یہ غزلیں میں نے لکھی ہو ئی ہے
دلِ ناداں! طرفِ موجِ ہوا سوچ کے چل
فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں
پرند نامہ بری میں کہاں سے آتے ہیں
اگر آپ لوگوں کی اجازت ہو تو میں پوسٹ کردوں
معذرت کے ساتھ
وارث صاحب مجھے اردو پوائنٹ پر یہ مصرعہ کچھ یوں لکھا ہوا نظر آیا
لوحِ زمیں تو ٹھیک ہے، لوحِ زماں؟ نہیں نہیں
اور آپ نے کچھ یو ں تحریر کیا تھا
لوحِ زمیں تک تو خیر، لوحِ زماں نہیں نہیں
شکریہ
میں طلبگار بھی تھا کام کی آسانی کا
حکم ہے مجھ کو خرابوں کی نگہبانی کا
اس ہوس میں کہ مرے ہاتھ نہ خالی رہ جائیں
کتنا نقصان ہوا ہے مری پیشانی کا
عرفان صدیقی