میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا
یہ ہے وہ جرم جو مجھ سے کسی عنواں نہ ہوا
اس گنہ پر مری اک عمر اندھیرے میں کٹی
مجھ سے اس موت کے میلے میں چراغاں نہ ہوا
چراغاں
کیونکہ اس مراسلے کو اگر ہم خود بھی دوبارہ پڑھتے تو کوا پڑھ لیتے کیونکہ آج کل کوے ہمارے ذہن پر سوار ہیں۔ پہلے کبوتر بھی ساتھ ساتھ ہوتے تھے لیکن اب نجانے کس دیس کو چلے گئے۔ لیکن آج کل میں واپس آ جائیں گے۔