یہاں کوئی ایسا زیادہ بڑا فرق نہیں ہے۔
اور ابھی صورتحال بدلے گی۔ نوٹیفیکشن کے بعد تین دن کے اندر آزاد امیدواروں نے بھی کسی پارٹی میں شمولیت حاصل کرنی ہے۔ اس سے یہ پوزیشن بدل جائے گی۔
اوہ۔ یہ تو واقعی بہت برا ہوا۔ سات ہزار ووٹس رجیکٹ ہو جانا اچھی خاصی شرح ہے۔
میرے خیال میں یہاں لبیک والے عثمان ڈار کی ہار کا سبب بنے ہیں، دس ہزار ووٹس ہیں لبیک کے امیدوار کے۔
1982ء میں عمران خان جب کپتان بنا تھا تو ماجد خان اپنے کیرئیر کے زوال پر تھا اور عمران خان نے ماجد کو ڈراپ کر دیا تھا۔ ماجد خان تب ہی سے ناراض ہے اور غصے کا بھی مشہور ہے، بہت حد تک ممکن ہے کہ ابھی تک ناراض ہو۔ :)
جی کولیشن گورنمنٹ بنے گی لیکن یہ ایسی ہی کولیشن ہوگی جیسی این ڈی اے کی کولیشن ہے یعنی بڑا حصہ پی ٹی آئی کا اور کچھ چھوٹی پارٹیاں جیسے بی جے پی اور دوسری چھوٹی پارٹیاں این ڈی اے میں۔ فرق یہ ہوگا کہ پی ٹی آئی کی اپوزیشن بہت مضبوط ہوگی بنسبت این ڈی اے کے۔
ملک میں تو جو تبدیلی آئی گئی سو آئی گئی،محفل پر بھی تبدیلی آ گئی ہے۔ اب یہاں جو پی ٹی آئی کی بات کرےگا وہ راندۂ درگاہ ہوگا کیونکہ یہ اپوزیشن کی محفل ہے۔ :)
کہاں رہتے ہیں سر، پارٹی بدلنے کی صورت میں جیتا ہوا رکن ڈس کوالیفائی ہو جائے گا، پنجاب میں اب ہارس ٹریڈنگ ہوگی، فارورڈ بلاک بنیں گے، پی ٹی آئی ، پی پی کے ساتھ ڈیل کرے گی، ورنہ خالی مرکز سے حکومت کی صورت میں "ٹھنڈ" نہیں پڑے گی!