:)
بور تو لفظ ہی انگریزی کا ہے۔ یہ تو اردو کی کشادہ دامنی ہے کہ پہلے بور کو انگریزی سے لیا اور پھر بوریت بھی ایجاد کر لی۔ ہمیں تو لگتا ہے یہ سارا کھٹراگ ہمیں بیزار کرنے کے لئے ہی کیا گیا ہے۔ :)
ہاہاہاہا
ہمارے ہاں کی گالیاں تو سب "سہلِ ممتنع" کی اعلیٰ تمثیل ہیں۔ :)
ویسے اللہ نہ کرے جو ہم کسی استاد کو گالیاں دیں۔ ہم تو اساتذہ کا بڑا احترام کرتے ہیں۔
ارے بھیا ! آپ تو خود ہی استاد ہیں۔ جبھی کسی اور اُستاد کے نام سے بدک جاتے ہیں۔
نہ جانے کب اس ناچیز کو زانوئے تلمذ تہہ کرنے کی اجازت ملے گی۔ یا قیام میں ہی پٹھے اکڑ جائیں گے۔
بھئی اپنا شاعری کا زمرہ ہوگا تو دو چار شاعر تو ہونے چاہیے نا۔۔۔۔! ایک تو نین بھیا ہو جائیں گے، ایک ٓپ کے استاد، ایک آپ۔
ہم سامعین کا کردار کریں گے۔ :)