غزل
بات بھی تول رہا ہے پیارے
یا یونہی بول رہا ہے پیارے
شہر میں ڈھونڈ پڑی ہے تیری
تو یہاں ڈول رہا ہے پیارے
جب سے کنگال ہوا ہے یہ دل
سیپیاں رول رہا ہے پیارے
وہ کوئی اور ہو نہیں سکتا
مجھ میں جو بول رہا ہے پیارے
اپنے لہجے میں انا کا اپنی
زہر کیوں گھول رہا ہے پیارے
شل ہوئے پاؤں تو اب...