کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
اندھیرے شام سے پہلے نگاہوں میں اترتے ہیں
چمکتی دھوپ کا منظر بہت تاریک لگتا ہے
گھنے پیڑوں کے سائے بھی
زمیں سے روٹھ جاتے ہیں
کہ صبحِ نو بہاراں بھی خزاں معلوم ہوتی ہے
کبھی ایسا بھی ہوتاہے
کہ حرف و صورت کے رشتے
زباںسے ٹوٹ جاتے ہیں
نہ سوچیں ساتھ دیتی ہیں
نہ بازو کام...