جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی
جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی، ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا
کبھی شہرِ بتاں میں خراب پھرے، کبھی دشتِ جنوں آباد کیا۔۔
کبھی بستیاں بن، کبھی کوہ و دمن،رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن
جہاں حُسن ملا وہاں بیٹھ گئے، جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا۔۔
شبِ ماہ میں جب بھی یہ درد...