حیرت ہے کہ نثر کی لڑی کو بھی آپ لوگوں نے اتنا مشکل بنا دیا۔
ارے بھئی شاعری تو ہے نہیں کہ ذرا ایک حرف گر گیا تو شاعر بھی دھڑام سے نیچے آ پڑا ۔ نثر لکھنی ہے جس کے جو دل میں آئے لکھے اور پیش کر دے۔ :)
پہلے زمانے میں چشم براہ کا لفظ شادی کارڈز پر نظر آیا کرتا تھا۔ :) آج کل تو یوں بھی شادی ہال میں مہمان پہلے پہنچ جاتے ہیں اور میزبان بعد میں پہنچتے ہیں۔ :)
نثر والا دھاگہ یہ ہے۔