دسمبر لوٹ آیا ہے
تمھارے لوٹ آنے کی
نئی امید جاگی ہے
ابھی پچھلے برس تم نے
میرے سینے پر سر رکھ کر
حیا سے منہ چھپایا تھا
ابھی پچھلے برس ہی تو
دسمبر کے مہینے میں
تمھیں بانہوں میں تھاما تھا
مگر اپریل آنے تک
تمھاری جھیل آنکھوں میں
نیا سپنا سمایا تھا
میرے چھوٹے سے آنگن میں
تمھیں وحشت سی ہوتی تھی...