میرے بھائی یہ کراچی والے ہیں ۔
اور مکمل قطع یوں ہے ۔
بنواتے ہوئے شیو میں ہجام سے بولا
اپنا یا ہے کیوں آپ نے یہ پیشہِدشنام
گردن پہ مری استرا رکھتے ہوئے بولا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
یہ نیو کراچی میں رہتے ہیں
بہت بہت خوبصورت اشعار ہیں فاتح الدین بشیر صاحب
تینوں اشعار اپنی حیثیت میں مکمل ہیں مگر مجھے بھی یہی شعر بہت پسند آیا
آج شب جو ٹوٹے ہیں آسماں سے دو تارے
ز ند گی کے محور پر کیا و ہ لو ٹ پا ئیں گے ؟
سبحان اللہ سبحان اللہ واہ واہ۔۔۔
غزل مل جائے تو ضرور عطا کیجئے گا۔
والسلام
جو تو یہاں ہے تو پھر یہ جہاں مناسب ہے
زمین ٹھیک ہے اور آسماں مناسب ہے
مجھے تو مانگ دعاؤں کی اس بلندی سے
جہاں سے میں بھی کہوں ہاں یہاں مناسب ہے
عماد اظہر -- فیصل آباد
(شعری مجموعہ ’’ موجود ‘‘ )