زندگی کسی میدانِ کار زار کا نام نہیں ۔ یہ جلوہ گاہ ہے حُسن کی جلوہ گاہ۔ یہ ایک بارونق بازار ہے جس میں سے خریدار گذرتا ہے۔ وہ خریداری کرتا ہے ، اس کا سرمایہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر تعجب ہے کہ اس کی خریداری بھی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتا ہے ، رونقِ بازار قائم رہتی ہے اور...