صاحبِ دھاگہ اور منتظم صاحب کے حکم کی تعمیل میں کچھ حاضر کیے دیتے ہیں
ہونٹوں پہ پیاس ہاتھ میں دریا دکھائی دے
کوئی نہیں جو دہر میں اُن سا دکھائی دے
اٹٌی ہیں میری آنکھیں زمانوں کی دھول سے
ہے معجزہ کہ اب وہی چہرا دکھائی دے
لازم ہے دردِ دل پہ نظر کا شعور بھی
آنکھیں ہوں اشکبار تو پھر کیا دکھائی...