اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِيْنَ۔ةً لَّ۔هَا لِنَبْلُوَهُ۔مْ اَيُّ۔هُ۔مْ اَحْسَنُ عَمَلًا
(7)
جو کچھ زمین پر ہے بے شک ہم نے اسے زمین کی زینت بنا دیا ہے تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں کون اچھے کام کرتا ہے
دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلے
ان کے اذہان پہ افکار پہ جالے نکلے
میں یہ سمجھا کہ کوئی نرم زمیں آ پہونچی
غور سے دیکھا تو وہ پاؤں کے چھالے نکلے
زخم کھا کر یہ تھی خوش فہمی کہ مر جائیں گے
دوستو ہم تو بڑے حوصلے والے نکلے
دل ٹٹولا شب تنہائی تو محسوس ہوا
ہم بھی اے دوست ترے چاہنے والے نکلے
آج کے...