آگ کے پاس
پیرِ واماندہ کوئی
کوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاں
نوجوان بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوں
(اِک رقابت کی سیاہ لہر بہت تیز
مرے سینۂ سوزاں سے گزر جاتی ہے)
جس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گلداں کی
مس و سیم کے کاسوں کی چمک!
اور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے
کوئلے آگ میں جلتے ہوئے
کن یادوں کی...
شہرِ وجود اور مزار
یہ مزار،
سجدہ گزار جس پہ رہے ہیں ہم
یہ مزارِ تار۔۔۔۔ خبر نہیں
کسی صبحِ نو کا جلال ہے
کہ ہے رات کوئی دبی ہوئی؟
کسی آئنے کو سزا ملی، جو ازل سے
عقدۂ نا کشا کا شکار تھا؟
کسی قہقہے کا مآل ہے
جو دوامِ ذات کی آرزو میں نزاز تھا؟
یہ مزار خیرہ نگہ سہی،
یہ مزار، مہر بلب سہی،
جو...
شہرِ وجود اور مزار
یہ مزار،
سجدہ گزار جس پہ رہے ہیں ہم
یہ مزارِ تار۔۔۔۔ خبر نہیں
کسی صبحِ نو کا جلال ہے
کہ ہے رات کوئی دبی ہوئی؟
کسی آئنے کو سزا ملی، جو ازل سے
عقدۂ نا کشا کا شکار تھا؟
کسی قہقہے کا مآل ہے
جو دوامِ ذات کی آرزو میں نزاز تھا؟
یہ مزار خیرہ نگہ سہی،
یہ مزار، مہر بلب...
حافظ کی غزل کا منظوم ترجمہ از ڈاکٹر خالد حمید ایم ڈی
مے کے بغیر بزم ہے کیا، نو بہار کیا
ساقی کہاں ہے اور ہے یہ انتظار کیا
معنیِ آبِ زندگی و روضۂ ارم
جز طرفِ جوئیبار و مئے خوشگوار کیا
تھوڑی بہت خوشی بھی زمانے میں ہے بہت
جز رنگ ورنہ عمر کا انجامِ کار کیا
دامِ زماں سے بچ کے میں الجھا ہوں...
کوئی دابی پور کماد کی
اک منزل پچھلے چاند کی
نت روشن جس کی لو
وہ وقت کو پیچھے چھوڑ گئی
اسے دھنّے واد کہو
دابی ہوئی پور کماد کی
جو پھوٹی مگھر پو
کتنوں کو یہی اک چاہ تھی
وہ صرف مخاطب ہو
اے روپ جمال وصال کے
ترا کون سا ہے شبھ ناؤں
وہ جن میں تیرے لوگ تھے
کن گھاٹوں اترے گاؤں
کن صدیوں پر تری...
درِ قفس سے پرے جب صبا گزرتی ہے
کسے خبر کہ اسیروں پہ کیا گزرتی ہے
تعلقات ابھی اس قدر نہ ٹوٹے تھے
کہ تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے
وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے
بجھے چراغ کو چھو کر ہوا گزرتی ہے
فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر
گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے
یہ اہلِ ہجر...