نظم
’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ‘‘
(اردو: نستعلیق )
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
کیوں نہیں کرتا ہے کوئی دوسرا کچھ بات چیت
دیکھتا ہوں میں جسے وہ چپ تیری محفل میں ہے
اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
اب تیری ہمت کا چرچہ غیر کی محفل میں ہے...
دبئی کے ایک مشاعرے میں مصدق لاکھانی سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی کوئی 2003 کی بات ہے اس وقت انہوں نے ایک نمکین غزل پیش کی تھی جو شعر حافظے میں ہیں سو پیش کرتا ہوں ۔
اس ربط پر ملاحظہ کیجیے !
’’ یارو ! بتاؤں تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے ‘‘
دبئی کے ایک مشاعرے میں مصدق لاکھانی سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی کوئی 2003 کی بات ہے
اس وقت انہوں نے ایک نمکین غزل پیش کی تھی جو شعر حافظے میں ہیں سو پیش کرتا ہوں ۔
نمکین غزل
یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے
سارے زمانے بھرکا تماشہ دبئی میں ہے
شلوار پر بھی اس نے * کندورہ چڑھالیا...
او وووووووووو۔ جیواں دا ریہہ میرے ویرا۔۔
اللہ قدم قدم تے برکتاں تے خوشیاں نصیب کرے ۔
سدا سکھی روویں تے پاسکتان دا ناں اچا کریں۔
والسلام
دیارِ غیر میں پہنچا تو یہ ہوا معلوم
وطن میں رہ کے بہت دور میں وطن سے رہا