روندے ہے نقش پا کی طرح خلق یاں مجھے
اے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے
اے گل تو رخت باندھ اٹھاؤں میں آشیاں
گل چیں تجھے نہ دیکھ سکے باغباں تجھے
رہتی ہے کوئی بن کئے میرے تئیں تمام
جوں شمع چھوڑنے کی نہیں یہ زباں مجھے
پتھر تلے کا ہاتھ ہے غفلت کے ہاتھ دل
سنگ گراں ہوئی ہے یہ خواب گراں مجھے
کچھ اور...