ناروے میں ایک سفاک قاتل نے قتل عام سے قبل اپنی کتاب کی ای بک بنا کر مختلف میڈیا ہاؤسز کو ارسال کر دی تھی ۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر اس کا پرنٹ ایڈیشن منظر عام پر آیا تو پولیس ضبط کر لے گی اور کوئی اسے پڑھ نہ پائے گا۔
پاکستان میں بھی جن بہادر لکھاریوں کو اپنی تصنیفات ضبط کئے جانے کا خطرہ ہے۔...