صفحہ نمبر 49
میں غش میں آ گیا۔ تھی تو یہ بزدلی مگر میں کیا کرتا اُن کی چھریاں اور اُن کے سلوکے تازیانے غضب کے تھے۔ میری چمڑی انہوں نے ادھیڑ ڈالی۔ بس یہ سارا قصہ ہے ٹام میان جب سنیں گے کہ میں نے اُن کی بندوق کی اس طرح حفاظت کی تو بڑے خوش ہوں گے اور کہیں گے کہ "شاباش آٹرشاباش آٹر تیرا سر تو پتھر...