اوتسُو (کیوٹو کے قریب ایک چھوٹا سا شہر):
ایک مقامی میلہ: کپڑے اور لکڑی پر کی گئی کشیدہ کاری سے بنی ایک روایتی جاپانی پالکی، جسے لوگ میلے میں اٹھا کر چل رہے ہیں۔
نہیں صاحب! ہاسٹل میں رہنا کبھی نصیب نہیں ہوا۔ ۲۰۰۳ میں جاپان جانا پڑا اور اس حالت میں کہ انڈا فرائی کرنے کے علاوہ کسی چیز کی قدرت نہ تھی۔ جانے سے دو روز قبل اماں نے پلاؤ بنانا سکھایا۔ایک سال جاپانی چاول، مچھلی، نوڈل، سبزیوں کے سہارے گزرا۔روٹی پکانا پھر بھی نہ سیکھ پائے۔ یہ حالت دیکھ کر ایک دوست...
کیوٹو ٹاور
کیوٹو جاپان کا پرانا دارالخلافہ تھا اور تقریبا ایک ہزار سال تک مرکزِ حکومت رہا۔ شہر کی غیر معمولی تاریخی اور ثقافتی حیثیت کے باعث ایک خاص حد سے زیادہ اونچائی کی عمارت بنانا قانونی طور پر منع ہے۔ کیوٹو ٹاور کو اس سے استثنا حاصل ہے۔ اونچائی ۱۳۱ میٹر۔
اس غریب الدیار کو ۲۰۰۳ تا ۲۰۰۹ بسلسلہ تعلیم و تحقیق جاپان رہنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس لڑی میں اس دور کی یادیں تصاویر کی صورت میں گاہے بگاہے چسپاں کرتا رہوں گا۔ فوٹو گرافی کے فن میں بالکل کورا ہوں۔ فوٹو کے جمالیاتی پہلو سے زیادہ یاداشتوں کی شراکت مقصود ہے۔