نقوی صاحب ہمارے ایسے ہی رویوں نے مذہب کے نام پر وحشت، درندگی اور بربریت کی ایسی داستانیں رقم کروائی ہیں جن کی مثال تین سو سال پہلے کے یورپ میں ہی مل سکتی ہے۔ بلا تحقیق الزام لگانا، جان بوجھ کر الزام لگانا، مُلا اور عوام کا قانون اپنے ہاتھ میں لے لینا، انتظامیہ اور عدلیہ پر من پسند "اسلامی"...
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے نزدیک قرآن کو وضو کرکے پڑھنا ضروری نہیں چونکہ اگر ایسا ہوتا تو غیر مسلم کبھی بھی قرآن کو نہ پڑھ سکتے۔ چناچہ غیرمسلم قرآن کو ہاتھ لگا سکتے ہیں بلکہ اسے کھول کر پڑھ بھی سکتے ہیں۔ اگر یہ خبر سچ ہے تو لعنت ہے ایسے اسلام کی ایسی تشریح پر۔